پی پی ایچ آئی بلوچستان کے ڈسٹرکٹ آفسز کے اسسٹنٹس: کم تنخواہ، زیادہ کام اور بنیادی سہولیات سے محرومی

 


پی پی ایچ آئی بلوچستان کے ڈسٹرکٹ آفسز کے اسسٹنٹس: کم تنخواہ، زیادہ کام اور بنیادی سہولیات سے محرومی

بلوچستان میں پی پی ایچ آئی کے مختلف ڈسٹرکٹ دفاتر میں کام کرنے والے اسسٹنٹس ایک اہم مگر نظر انداز شدہ طبقہ ہیں۔ یہ ملازمین روزانہ دفتری امور، ریکارڈ کی دیکھ بھال، خط و کتابت، رپورٹنگ، ڈیٹا انٹری، فائل ورک، افسران کے احکامات کی تکمیل اور دیگر انتظامی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں انہیں ملنے والی تنخواہ اور مراعات انتہائی کم ہیں۔

افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ کئی ڈسٹرکٹ دفاتر میں اسسٹنٹس سے ان کی اصل ذمہ داریوں سے کہیں زیادہ کام لیا جاتا ہے، مگر ان کی تنخواہیں ایسی سطح پر رکھی جاتی ہیں جو ان کی ذمہ داریوں اور کام کی نوعیت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

چوکیدار، سویپر اور چپڑاسی کے برابر تنخواہ؟

ایک سنجیدہ سوال یہ ہے کہ اگر ایک اسسٹنٹ سے دفتری ریکارڈ، کمپیوٹر ورک، رپورٹس، خط و کتابت، ڈیٹا اور انتظامی معاملات سنبھالنے کی ذمہ داری لی جاتی ہے تو اس کی تنخواہ اور گریڈ بھی اس کی ذمہ داری کے مطابق کیوں نہیں ہونا چاہیے؟

ایسے ملازمین کا مؤقف ہے کہ انہیں بعض اوقات چوکیدار، سویپر یا چپڑاسی کے برابر یا قریب قریب تنخواہ دی جاتی ہے، جبکہ کام اور ذمہ داریوں میں واضح فرق موجود ہے۔

نہ رسک الاؤنس، نہ مناسب سالانہ اضافہ

ان ملازمین کی ایک اور بڑی شکایت یہ ہے کہ انہیں رسک الاؤنس جیسی سہولت حاصل نہیں، جبکہ وہ صحت کے شعبے سے وابستہ ادارے کے ماحول میں کام کرتے ہیں۔

اسی طرح تنخواہوں میں مناسب سالانہ اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے مہنگائی کے موجودہ دور میں ان کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مہنگائی بڑھ رہی ہے، بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم، علاج اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن کم تنخواہ پر کام کرنے والے ان ملازمین کی مالی مشکلات پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی۔

دس دس سال سے خدمات انجام دینے والے ملازمین

بعض اسسٹنٹس طویل عرصے سے ادارے کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کئی ملازمین نے اپنی جوانی کا بڑا حصہ ادارے کی خدمت میں گزار دیا، مگر آج بھی ان کی ملازمت، تنخواہ اور مستقبل کے حوالے سے وہی مسائل موجود ہیں۔

یہ سوال صرف ایک ملازم کا نہیں بلکہ ان تمام ملازمین کا ہے جو برسوں سے ادارے کے انتظامی نظام کو چلانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مطالبات

پی پی ایچ آئی بلوچستان کی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ:

  1. ڈسٹرکٹ آفس اسسٹنٹس کی تنخواہوں کا فوری جائزہ لیا جائے۔
  2. تنخواہ کو ملازمین کی تعلیمی قابلیت، تجربے اور ذمہ داریوں کے مطابق مقرر کیا جائے۔
  3. طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کے لیے مناسب سالانہ انکریمنٹ کا نظام بنایا جائے۔
  4. متعلقہ ملازمین کے لیے رسک اور دیگر مناسب الاؤنسز پر غور کیا جائے۔
  5. ملازمین کے عہدے، ذمہ داری اور تنخواہ میں موجود فرق کو ختم کیا جائے۔
  6. طویل عرصے سے کام کرنے والے ملازمین کے مستقبل اور ملازمت کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے۔
  7. ملازمین کی شکایات سننے کے لیے ایک مؤثر اور شفاف نظام قائم کیا جائے۔

پی پی ایچ آئی بلوچستان سے وابستہ ڈسٹرکٹ آفس اسسٹنٹس بھی انسان ہیں، ان کے بھی گھر ہیں، بچوں کی تعلیم ہے اور روزمرہ کے اخراجات ہیں۔ ان کی محنت، تجربے اور ذمہ داریوں کے مطابق مناسب تنخواہ اور مراعات دینا صرف مالی معاملہ نہیں بلکہ ملازمین کے ساتھ انصاف کا تقاضا ہے۔

کم تنخواہ میں زیادہ کام کب تک؟

پی پی ایچ آئی بلوچستان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ڈسٹرکٹ آفس اسسٹنٹس کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور انہیں ان کے کام، تجربے اور ذمہ داری کے مطابق باعزت تنخواہ اور بنیادی مراعات فراہم کرے۔

#PPHIBalochistan #PPHIEmployees #DistrictOfficeAssistants #EmployeesRights #Balochistan #FairSalary #RiskAllowance #AnnualIncrement #EmployeeRights

Comments

Popular posts from this blog

List of popular 18+( adult themed ) Movies

Biography of Nora Fatehi